17 ستمبر 2010 - 19:30

پاراچنار میں ایف سی کمانڈنٹ نے دعوی کیا ہے کہ 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے پاک کرلیا گی اور پاراچنار روڈ عام ٹریفک کے لئے کھول دی گئی ہے تاہم انھوں نے کہا ہے کہ تورغر میں اب بھی شدت پسند موجود ہیں۔

پاراچنار…کرم ایجنسی میں آپریشن کے دوران 80 فیصد علاقہ شدت پسندوں سے پاک کرلیا گیا۔ پارا چنار روڈ عام ٹریفک کے لئے کھول دی گئی ۔۔کمانڈنٹ کرم ملیشیا کرنل توصیف نے پاراچنار میں میڈیا کے نمائندوں کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ کرم ایجنسی کے علاقے تورغر میں اب بھی شدت پسند موجود ہیں۔ جن کے خلاف کارروائی جاری ہے ۔ کرنل توصیف کے مطابق سنٹرل کرم ایجنسی کا علاقہ ڈوگر شدت پسندوں سے خالی کروا لیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ آپریشن کے دوران اب تک 96 شدت پسند مارے گئے ہیں۔ جبکہ سیکورٹی فورسز کے 18 جوانوں نے جام شہادت نوش کیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ شدت پسندوں کا صفایا کرنے تک آپریشن جاری رہے گا۔ 

یادرہے کہ کمانڈنٹ کے اعتراف کے مطابق تورغر میں اب بھی شدت پسند موجود ہیں اور یہ وہی مقام ہے جہاں دہشت گردوں نے کئی بار نہتے مسافروں کو قتل کرکے امن معاہدے متعدد بار توڑ دیئے ہیں اور کمانڈنٹ صاحب کی یہ بات سمجھ سے بالاتر ہے کہ تور غر میں دہشت گردوں کی موجودگی میں پاراچنار رود کھولنے کا مطلب کیا ہے؟ کیا تور غر کے مقام پر ایک بار پھر خون کی ہولی کھیلنے کا منصوبہ ہے؟ کہیں کرنل توصیف بھی اپنے بدنام زمانہ پیشرو کرنل مجید کے راستے پر گامزن تو نہیں ہیں؟

یادرهی که کرنل مجید نی 2008 کی وسط میں 40 دہشت گردوں کو صدہ جیل سے رہا کرواکر مسلح کیا اور انہیں دوسرے روز آنے والے قافلے کا راستہ بندکرنے کی ہدایت کرکے متعدد شیعہ ڈرایئوروں اور مسافروں کا قتل عام کرایا۔ اسیروں کے جسم کے ٹکڑے کردیئے گئے اور بعض کو زندہ آگ میں جلایا گیا۔

..........

/110